مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِسَابِ . باب: حساب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18392
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُحَاسَبُ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُغْفَرُ لَهُ ، يَرَى الْمُسْلِمُ عَمَلَهُ فِي قَبْرِهِ وَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : " فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” قیامت کے دن کسی سے حساب لے کر اس کی مغفرت نہیں ہو گی ، مسلمان اپنی قبر میں ہی اپنا عمل دیکھ لے گا ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس دن انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ۔ “ ” مجرم لوگ اپنی نشانی کے حوالے سے پہچانے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔