مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِسَابِ . باب: حساب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَنْبٌ يُغْفَرُ ، وَذَنْبٌ لَا يُغْفَرُ ، وَذَنْبٌ يُجَازَى بِهِ . فَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي يُغْفَرُ فَعَمَلُكَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ رَبِّكَ ، وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي تُجَازَى بِهِ فَظُلْمُكَ أَخَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک گناہ وہ ہے جس کی مغفرت ہو جائے گی ، ایک گناہ وہ ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی ، ایک گناہ وہ ہے جس کا بدلہ دلوایا جائے گا ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی ، تو وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت ہو جائے گی تو وہ تمہارا وہ عمل ہے جس کا تعلق تمہارے اور تمہارے پروردگار کے مابین معاملے سے ہو ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے ، جس کا بدلہ دلوایا جائے گا تو وہ تمہارا اپنے بھائی پر ظلم کرنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔