حدیث نمبر: 18382
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الدَّوَاوِينُ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ثَلَاثَةٌ : فَدِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا ، وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا ، وَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ . فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ ، قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ . وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ ، مِنْ صَوْمِ يَوْمٍ تَرَكَهُ ، أَوْ صَلَاةٍ تَرَكَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ ذَلِكَ ، وَيَتَجَاوَزُ إِنْ شَاءَ . وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا ، الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى وَكَانَ صَدُوقًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دواوین ( یعنی اعمال نامے ) اللہ تعالیٰ کے پاس تین قسم کے ہوں گے ، ایک دیوان وہ ہو گا جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کوئی پرواہ نہیں کرے گا ، ایک دیوان وہ ہو گا جس میں سے اللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں چھوڑے گا اور ایک دیوان وہ ہو گا جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا ۔ جہاں تک اس دیوان کا تعلق ہے جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا تو وہ ( کسی کو ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا ۔ “ جہاں تک اس دیوان کا تعلق ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کوئی پرواہ نہیں کرے گا ، تو وہ بندے کا اپنے اوپر وہ ظلم کرنا ہے جو اس کے اور اس کے پروردگار کے درمیان معاملات کے حوالے سے ہو ، جیسے اس نے کسی دن کا روزہ ترک کر دیا ہو یا نماز ترک کر دی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا اور درگزر کرے گا ، اگر وہ چاہے گا ۔ جہاں تک اس دیوان کا تعلق ہے ، جس میں سے اللہ تعالیٰ کوئی بھی چیز نہیں چھوڑے گا تو وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے اس کا لازمی طور پر قصاص ( یعنی بدلہ ) ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، مسلم بن ابراہیم کہتے ہیں : صدقہ بن موسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی اور وہ صدوق تھے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18382
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (240/6)»