مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِسَابِ . باب: حساب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَنْبٌ لَا يُغْفَرُ ، وَذَنْبٌ لَا يُتْرَكُ ، وَذَنْبٌ يُغْفَرُ . فَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي يُغْفَرُ فَذَنْبُ الْعَبْدِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُتْرَكُ فَذَنْبُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک گناہ وہ ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی ، ایک گناہ وہ ہے جسے چھوڑا نہیں جائے گا اور ایک گناہ وہ ہے ، جس کی مغفرت ہو جائے گی ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت ہو جائے گی تو وہ بندے کا وہ گناہ ہے جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین معاملے کے حوالے سے ہو ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جسے چھوڑا نہیں جائے گا تو وہ بندوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ( ظلم و زیانی کے طور پر ) کیا ہوا گناہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سفیان بن عبداللہ بن رواحہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔