مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِسَابِ . باب: حساب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الظُّلْمُ ثَلَاثَةٌ : فَظُلْمٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ ، وَظُلْمٌ يَغْفِرُهُ ، وَظُلْمٌ لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ . فَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ ، قَالَ اللَّهُ : إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ . وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ لِأَنْفُسِهِمْ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَبِّهِمْ . وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا ، حَتَّى يَدِينَ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : أَحْمَدَ بْنِ مَالِكٍ الْقُشَيْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ قَدْ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفِهِمْ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ظلم تین قسم کا ہوتا ہے ، ایک ظلم وہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا ایک ظلم وہ ہے جس کی وہ مغفرت کر دے گا اور ایک ظلم وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ چھوڑے گا نہیں ، جہاں تک اس ظلم کا تعلق ہے ، جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا تو وہ شرک ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک شرک بڑا ظلم ہے ۔ “ جہاں تک اس ظلم کا تعلق ہے جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت کر دے گا تو یہ بندوں کا وہ ظلم ہے جو انہوں نے اپنے اوپر کیا ہو گا جو ان کے اور ان کے پروردگار کے مابین معاملات کے حوالے سے ہو گا ۔ جہاں تک اس ظلم کا تعلق ہے جس کو اللہ تعالیٰ چھوڑے گا نہیں ، تو وہ بندوں کا ایک دوسرے پر کیا ہوا ظلم ہے ( اللہ تعالیٰ اسے نہیں چھوڑے گا ) جب تک وہ بندوں کو ایک دوسرے سے بدلہ نہیں دلوا دیتا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد أحمد بن مالک قشیری کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس ، روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔