حدیث نمبر: 1838
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَقْسَمْتُ لَبَرَرْتُ ، إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ لَرُعَاةُ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ - يَعْنِي الْمُؤَذِّنِينَ - وَإِنَّهُمْ يُعْرَفُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِطُولِ أَعْنَاقِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : اتَّهَمَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر میں قسم اٹھاؤں تو میں سچا ہوؤں گا ( وہ قسم اس بارے میں ہے ) کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو سورج اور چاند کا خیال رکھتے ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اذان دینے والے لوگ تھے ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) یہ لوگ قیامت کے دن اپنی طویل گردن کی وجہ سے پہچانے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے امام ذہبی کہتے ہیں : ابوحاتم نے اس پر تہمت عائد کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1838
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً