مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ . باب: اذان دینے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1837
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : وَدِدْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانَا النِّدَاءَ . قُلْتُ : لِمَ ؟ قَالَ : لِأَنَّهُمْ أَطْوَلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اذان دینے کی خدمت ہمارے سپرد کر دیتے راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے فرمایا : کیونکہ قیامت کے دن اہل جنت میں سے ان کی گردنیں سب سے زیادہ لمبی ہوں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔