حدیث نمبر: 18378
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : خَطَبَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَعْذِرَنَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ مَعَاذِيرَ ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : يَا آدَمُ ، لَوْلَا أَنِّي لَعَنْتُ الْكَذَّابِينَ ، وَأَبْغَضْتُ الْكَذِبَ وَالْحَلِفَ ، وَأَوْعَدْتُ عَلَيْهِ لَرَحِمْتُ الْيَوْمَ وَلَدَكَ أَجْمَعِينَ مِنْ شِدَّةِ مَا أَعْدَدْتُ لَهُمْ مِنَ الْعَذَابِ ، وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي : لَئِنْ كُذِّبَتْ رُسُلِي ، وَعُصِيَ أَمْرِي ، لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . وَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا آدَمُ ، اعْلَمْ أَنِّي لَا أُدْخِلُ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ النَّارَ أَحَدًا ، وَلَا أُعَذِّبُ بِالنَّارِ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلَّا مَنْ قَدْ عَلِمْتُ بِعِلْمِي أَنِّي لَوْ رَدَتْتُهُ إِلَى الدُّنْيَا لَعَادَ إِلَى شَرِّ مَا كَانَ فِيهِ ، وَلَمْ يَرْجِعْ وَلَمْ يَعْتِبْ . وَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا آدَمُ ، قَدْ جَعَلْتُكَ حَكَمًا بَيْنِي وَبَيْنَ ذَرِّيَّتِكَ ، قُمْ عِنْدَ الْمِيزَانِ فَانْظُرْ مَا يُرْفَعُ إِلَيْكَ مِنْ أَعْمَالِهِمْ ، فَمَنْ رَجَحَ مِنْهُمْ خَيْرُهُ عَلَى شَرِّهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فَلَهُ الْجَنَّةُ ، حَتَّى تَعْلَمَ أَنِّي لَا أُدْخِلُ النَّارَ مِنْهُمْ إِلَّا ظَالِمًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سیدنا آدم علیہ السلام کے سامنے تین امور کے حوالے سے وجہ بیان کرے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کی ہے اور میں جھوٹ اور وعدہ خلافی کو ناپسند کرتا ہوں اور میں نے اس حوالے سے وعید بیان کی ہے تو آج کے دن میں نے تمہاری ساری اولاد پر رحم کر دینا تھا ، اس عذاب کی شدت کی وجہ سے جو میں نے اُن کے لئے تیار کیا ہے ، لیکن میری طرف سے یہ بات حق ہے کہ اگر میرے رسولوں کی تکذیب کی گئی اور میرے حکم کی نافرمانی کی گئی تو میں جہنم کو جنات اور انسانوں دونوں سے بھر دوں گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! تم یہ بات جان لو ! کہ میں تمہاری اولاد میں سے جہنم میں کسی فرد کو داخل نہیں کروں گا اور ان میں سے کسی فرد کو آگ کا عذاب نہیں دوں گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس کے بارے میں مجھے یہ علم ہو کہ اگر میں نے اسے دنیا کی طرف لوٹا دیا تو وہ پہلے سے زیادہ بدتر عمل کرے گا ، وہ رجوع نہیں کرے گا اور ٹھیک نہیں ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! میں تمہیں اپنے اور تمہاری ذریت کے درمیان ثالث مقرر کرتا ہوں ، تم میزان کے پاس کھڑے ہو جاؤ اور اس بات کا جائزہ لو کہ ان کے اعمال میں سے کیا تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے ؟ جس شخص کی بھلائی اس کے شر سے ذرے کے وزن جتنی زیادہ ہوئی تو اسے جنت مل جائے گی تاکہ تمہیں یہ بات پتہ چل جائے کہ میں اُن میں سے جہنم میں صرف ظالموں کو داخل کروں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18378
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (855)»