حدیث نمبر: 18377
وَعَنْ ثَوْبَانَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَظَّمَ شَأْنَ الْمَسْأَلَةِ فَقَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ جَاءَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَحْمِلُونَ أَوْثَانَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، لَمْ تُرْسِلْ لَنَا رَسُولًا ، وَلَمْ يَأْتِنَا لَكَ أَمْرٌ ، وَلَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا ، لَكُنَّا أَطْوَعَ عِبَادِكَ ، فَيَقُولُ لَهُمْ رَبُّهُمْ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ أَتُطِيعُونِي ؟ فَيَأْخُذُ عَلَى ذَلِكَ مَوَاثِيقَهُمْ . فَيَقُولُ : اعْمِدُوا لَهَا فَادْخُلُوهَا ، فَيَنْطَلِقُونَ حَتَّى إِذَا رَأَوْهَا فَرِقُوا فَرَجَعُوا . قَالُوا : رَبَّنَا ، فَرِقْنَا مِنْهَا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَدْخُلَهَا ، فَيَقُولُ : ادْخُلُوهَا دَاخِرِينَ " . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ دَخَلُوهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ كَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ضَعِيفَيْنِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي كِتَابِ الْقَدَرِ فِيمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال ( یعنی حساب ) کے مسئلے کی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا تو زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے لوگ آئیں گے انہوں نے اپنے بتوں کو اپنی پشتوں پر اٹھایا ہوا ہو گا ، ان کا پروردگار ان سے سوال کرے گا تو وہ جواب دیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمارے لیے کسی رسول کو مبعوث نہیں کیا اور ہمارے پاس تیرا کوئی حکم نہیں آیا ، اگر تو ہماری طرف رسول کو مبعوث کر دیتا تو ہم تیرے سب سے زیادہ فرمانبردار بندے بن جاتے ، تو پروردگار اُن سے فرمائے گا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر میں تمہیں کوئی حکم دوں تو تم میری اطاعت کرو گے ؟ پھر پروردگار اس حوالے سے ان لوگوں سے پختہ عہد لے گا ، پھر وہ فرمائے گا : تم لوگ اس ( یعنی جہنم ) کی طرف جاؤ ! اور اس میں داخل ہو جاؤ ، وہ لوگ روانہ ہوں گے ، یہاں تک کہ جب وہ اسے دیکھیں گے تو اس سے ڈر جائیں گے اور واپس آ جائیں گے اور کہیں گے : ہم اُس سے ڈر گئے ہیں ، ہم اس میں داخل ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں ، پروردگار فرمائے گا : تم لوگ ذلیل ہو کر اس میں داخل ہو جاؤ ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ لوگ پہلی مرتبہ میں ، اُس میں داخل ہو جاتے تو وہ اُن کے لیے ٹھنڈک والی اور سلامتی والی ہو جاتی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو ضعیف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس سے پہلے کتاب القدر میں وہ احادیث گزر چکی ہیں ، جو ان لوگوں کے بارے میں ہیں ، جو زمانہ فترت میں فوت ہو گئے تھے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18377
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3433)»