حدیث نمبر: 18376
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَبْدَأُ بِالْيَمِينِ قَبْلَ الْكَلَامِ ، فَقَالَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا أَنَّ رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - سَيَخْلُو بِهِ كَمَا يَخْلُو أَحَدُكُمْ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَيَقُولُ : ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا غَرَّكَ بِي ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا غَرَّكَ بِي ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا أَجَبْتَ الْمُرْسَلِينَ ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا أَجَبْتَ الْمُرْسَلِينَ ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا عَمِلْتَ ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا عَمِلْتَ ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمَتْ ؟ ابْنَ آدَمَ ، مَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ ؟ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا ، وَرَوَى بَعْضَهُ مَرْفُوعًا فِي الْأَوْسَطِ : " عَبْدِي ، مَا غَرَّكَ بِي ؟ مَاذَا أَجَبْتَ الْمُرْسَلِينَ ؟ " . وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ فِيهِمْ شَرِيكٌ أَيْضًا ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيُّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن عکیم بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس مسجد میں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے گفتگو سے پہلے قسم کے ذریعے اپنے کلام کا آغاز کیا اور پھر یہ فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا پروردگار انفرادی طور پر یوں کلام کرے گا جس طرح چودھویں رات میں ، تم میں سے کسی ایک کے سامنے چودھویں کا چاند اکیلا ہوتا ہے ، پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! میری ذات کے بارے میں کس چیز نے تمہیں غلط فہمی کا شکار کیا ؟ اے ابن آدم ! میری ذات کے بارے میں کس چیز نے تمہیں غلط فہمی کا شکار کیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے مرسلین کی دعوت کا کیا جواب دیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے مرسلین کی دعوت کا کیا جواب دیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے کیا عمل کیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے کیا عمل کیا ؟ اے ابن آدم ! تمہیں جو علم تھا اس کے حوالے سے تم نے کیا عمل کیا ؟ اے ابن آدم ! تمہیں جو علم تھا اس کے حوالے سے تم نے کیا عمل کیا ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے انہوں نے اس کا کچھ حصہ مرفوع روایت کے طور پر معجم اوسط میں نقل کیا ہے ( جس کے الفاظ یہ ہیں : ) ” اے میرے بندے ! کس چیز نے تمہیں میری ذات کے بارے میں غلط فہمی کا شکار کیا ؟ تم نے مرسلین کی دعوت کا کیا جواب دیا ؟ “ ۔ معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ، صحیح کے رجال ہیں ، صرف شریک بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے معجم اوسط کے رجال میں بھی شریک نامی راوی ہے اس کے علاوہ اسحاق بن عبداللہ تمیمی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18376
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8899)»