حدیث نمبر: 18371
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعَةٍ : عَنْ جَسَدِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ ، وَعُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ ، وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ ، وَفِيمَا أَنْفَقَهُ ، وَعَنْ حُبِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا عَلَامَةُ حُبِّكُمْ ؟ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَهُوَ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ دُونَ قَوْلِهِ: "وَعَنْ حُبِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ". وَمَا بَعْدَهُ. وَجَعَلَ الرَّابِعَةَ: "وَعَلَّمَهُ مَاذَا عَمِلَ بِهِ". وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، وَيُقَالُ لَهُ: الْمَعْكُوفُ، قَالَ صَاحِبُ الْمَيْزَانِ: أَتَى بِخَبَرٍ بَاطِلٍ، وَبَاقِيهِمْ ثِقَاتٌ. ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( قیامت کے دن ) بندے کے قدم اپنی جگہ سے اُس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لیا جاتا ، اُس کے جسم کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بوسیدہ کیا ؟ اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے فنا کیا ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کیسے اسے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ اور ہم اہل بیت کے ساتھ محبت کے بارے میں ( اس سے حساب لیا جائے گا ) عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کے ساتھ محبت کی علامت کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر لگایا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے یہ امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ اور اس کے بعد والا حصہ نقل نہیں کئے ہیں : ” ہم اہل بیت کے ساتھ محبت کے بارے میں ۔ “ انہوں نے چوتھی چیز نقل کی ہے : ” اُس سے علم کے بارے میں حساب لیا جائے گا کہ اس نے اس پر کتنا عمل کیا ۔ “ طبرانی کی سند میں ایک راوی حارث بن محمد کوفی ہے جسے معکوف کہا: جاتا ہے ” میزان“ کے مصنف نے یہ کہا: ہے : یہ جھوٹی روایت نقل کرتا ہے اس روایت کے باقی رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف