مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِسَابِ . باب: حساب کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18372
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ تَزُولَ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ : عَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ ، وَعَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن آدمی کے قدم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لے لیا جاتا ، اُس کی جوانی کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بوسیدہ کیا ؟ اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے فنا کیا ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کہاں سے کمایا اور کس کام میں خرچ کیا ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔