مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي الْبَعْثِ . باب: دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق روایات کا مجموعہ
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُحْشَرُ النَّاسُ فَيُنَادِي مُنَادٍ : أَلَيْسَ عَدْلًا مِنِّي أَنْ أُوَلِّيَ كُلَّ قَوْمٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ ؟ ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُمْ آلِهَتُهُمْ فَيَتَّبِعُونَهَا ، حَتَّى لَا يَبْقَى أَحَدٌ غَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : مَا لَكُمْ ؟ قَالُوا : لَا نَرَى إِلَهَنَا الَّذِي كُنَّا نَعْبُدُ ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . فَقِيلَ لِأَبِي بُرْدَةَ : وَاللَّهِ ، لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يَذْكُرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کا حشر کیا جائے گا ( یعنی جب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے ) تو ایک منادی یہ کہے گا : کیا یہ میری طرف سے عدل نہیں ہے ؟ کہ میں ہر قوم کو اس کے حوالے کر دوں ، جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے پھر ان کے معبود ان کے سامنے لائے جائیں گے اور وہ لوگ ان معبودوں کے پیچھے چلے جائیں گے ، یہاں تک کہ اس امت کے علاوہ کوئی اور باقی نہیں رہے گا ان سے کہا: جائے گا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ وہ جواب دیں گے : ہم نے اپنے معبود کو نہیں دیکھا ، جس کی ہم عبادت کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے تجلی کرے گا ۔ “ ابوبردہ سے کہا: گیا : کیا اللہ کی قسم آپ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اُس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، یہ کلمات انہوں نے تین مرتبہ کہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔