حدیث نمبر: 18349
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ . فَقَالَ : " سَلْ عَمَّا شِئْتَ " . قَالَ : كَمْ مُقَامُ النَّاسِ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ وَمَا يَشُقُّ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي ذَلِكَ الْمُقَامِ ؟ وَهَلْ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مَنْزِلٌ ؟ فَقَالَ : " أَمَّا قَوْلُكَ : كَمْ مُقَامُ النَّاسِ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعَالَمِينَ ؟ فَأَلْفُ سَنَةٍ ، لَا يُؤْذَنُ لَهُمْ . وَأَمَّا قَوْلُكَ : مَا يَشُقُّ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي ذَلِكَ الْمُقَامِ ؟ فَإِنَّ الْمُؤْمِنِينَ فَرِيقَانِ : فَأَمَّا السَّابِقُونَ فَكَالرَّجُلَيْنِ تَنَاجَيَا فَطَالَتْ نَجْوَاهُمَا ، ثُمَّ انْصَرَفَا ، فَأُدْخِلَا الْجَنَّةَ " . فَقُلْتُ : مَا أَيْسَرَ هَذَا ! " أَمَّا قَوْلُكَ : هَلْ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مَنْزِلٌ ؟ فَإِنَّ بَيْنَهُمَا حَوْضِي ، شُرُفَاتُهُ عَلَى الْجَنَّةِ ، وَتَضْرِبُ شُرُفَاتُهُ عَلَى النَّارِ ، طُولُهُ شَهْرٌ ، وَعَرْضُهُ شَهْرٌ ، أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، فِيهِ أَقْدَاحٌ مِنْ فِضَّةٍ وَقَوَارِيرُ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ كَأْسًا لَمْ يَجِدْ عَطَشًا وَلَا حُزْنًا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِيهِ ذِكْرُ الْحَوْضِ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ بِلَالٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جو چاہو سوال کرو ! انہوں نے عرض کی : قیامت کے دن تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے لوگ کتنا عرصہ کھڑے رہیں گے ؟ اور وہ کھڑا رہنا ، مومن کے لئے کتنا مشکل ہو گا ؟ اور کیا جنت اور جہنم کے درمیان کوئی اور منزل ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے اس سوال کا تعلق ہے کہ لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کے آگے کتنا عرصہ کھڑے رہیں گے ؟ تو وہ 1000 سال ( کا عرصہ ) ہو گا ، انہیں اجازت نہیں دی جائے گی ۔ جہاں تک تمہارے اس سوال کا تعلق ہے کہ وہ کھڑا ہونا ، مومن کے لئے کتنا مشکل ہو گا ؟ تو مومنین کے دو گروہ ہوں گے ، جہاں تک سبقت لے جانے والے لوگوں کا تعلق ہے تو جس طرح دو آدمی سرگوشی میں بات کر رہے ہوں اور ان کی سرگوشی طویل ہو جائے اور پھر وہ دونوں واپس چلے جائیں ( بس اتنا وقت محسوس ہو گا اور انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا ۔ میں نے کہا: یہ تو بہت آسان ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا جنت اور جہنم کے درمیان کوئی اور منزل بھی ہے ؟ تو ان دونوں کے درمیان میرا حوض ہے ، اس کا بالائی حصہ جنت سے لگتا ہے اور اس کے بالائی حصے کا ایک حصہ جہنم سے لگتا ہے ، اس کی لمبائی ایک ماہ کی مسافت جتنی ہے اور اس کی چوڑائی بھی ایک ماہ کی مسافت جتنی ہے ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اس میں چاندی کے پیالے اور شیشے کے برتن ہوں گے جو اس میں سے ایک گلاس پی لے گا اسے پیاس یا غم محسوس نہیں ہو گا ، جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے حوض کے تذکرے کے بارے میں ایک روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن بلال ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18349
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف