مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ خِفَّةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ . باب: قیامت کے دن کا مومنین کے لیے ہلکا ہونا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ مِقْدَارَ نِصْفِ يَوْمٍ مِنْ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ، فَيُهَوَّنُ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِ كَتَدَلِّي الشَّمْسِ لِلْغُرُوبِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اُس دن کی نصف کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی اور وہ دن مومن کے لیے اتنا ہلکا ہو گا ( یعنی وہ مومن کو اتنا مختصر محسوس ہو گا ) جتنا سورج جب غروب ہونے کے قریب ہو اُس وقت سے لے کر غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسماعیل بن عبداللہ بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔