مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي هَوْلِ الْمَطْلَعِ وَشِدَّةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ . باب: مطلع کی ہولناکی ، اور قیامت کے دن کی شدت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُرَاتٍ قَالَ : اخْتَصَمَ إِلَى مُحَارِبٍ رَجُلَانِ ، قَالَ : فَشَهِدَ عَلَى أَحَدِهِمَا رَجُلٌ ، فَقَالَ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ : وَاللَّهِ ، مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ لَرَجُلُ صِدْقٍ ، وَلَئِنْ سَأَلْتَ عَنْهُ لَيُحْمَدَنَّ أَوْ لَيُزَكَّيَنَّ ، وَلَقَدْ شَهِدَ عَلَيَّ بِبَاطِلٍ ، وَلَا أَدْرِي مَا اجْتِرَاؤُهُ عَلَى ذَلِكَ ؟ فَقَالَ لَهُ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ : يَا هَذَا اتَّقِ اللَّهَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " شَاهِدُ الزُّورِ لَا تَزُولُ قَدَمَاهُ حَتَّى تَجِبَ لَهُ النَّارُ ، وَإِنَّ الطَّيْرَ يَوْمَ تَضْرِبُ بِأَجْنِحَتِهَا ، وَتَرْمِي مَا فِي أَجْوَافِهَا ، مَا لَهَا طِلْبَةٌ " . وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعِظُ رَجُلًا . قُلْتُ : قِصَّةُ شَاهِدِ الزُّورِ رَوَاهَا ابْنُ مَاجَهْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَتَطْرَحُ مَا فِي بُطُونِهَا ، وَلَيْسَتْ عَلَيْهَا مَظْلَمَةٌ ، فَاتَّقِهِ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفُرَاتِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤محمد بن فرات بیان کرتے ہیں : محارب کے سامنے دو آدمیوں نے اپنا مقدمہ پیش کیا ، راوی کہتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک کے خلاف ایک شخص نے گواہی دیدی ، تو جس شخص کے خلاف گواہی دی گئی تھی اُس نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق یہ ایک سچا آدمی ہے اور اگر آپ اس کے بارے میں تفتیش کریں تو اس کی تعریف کی جائے گی اور اس کی نیکی کا تذکرہ ہو گا ، لیکن اس نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دی ہے اور مجھے اندازہ نہیں ہو پایا کہ اسے کس بات نے اس کام کی جرأت دلائی ہے ؟ تو محارب بن دثار نے اس شخص سے کہا: اے شخص ! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! کیونکہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جھوٹی گواہی دینے والے شخص کے قدم اپنی جگہ سے ہلنے سے پہلے اُس کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے اور قیامت کے دن پرندہ اپنے پر مارے گا اور جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے اُسے نکال دے گا حالانکہ اسے اس کی کوئی حاجت نہیں ہو گی ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت کسی شخص کو وعظ و نصیحت کر رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جھوٹے گواہ والا واقعہ امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اس صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” پرندے اپنے پیٹوں میں موجود جو کچھ ہے اسے پھینک دیں گے ، حالانکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی ہو گی “ ( آگے والے الفاظ شاید محارب بن دثار کے ہیں : ) تو تم اس ( جھوٹی گواہی ) سے بچ کے رہو ! اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فرات ہے اور وہ کذاب ہے ۔