مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي هَوْلِ الْمَطْلَعِ وَشِدَّةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ . باب: مطلع کی ہولناکی ، اور قیامت کے دن کی شدت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : الْأَرْضُ كُلُّهَا نَارٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَالْجَنَّةُ مِنْ وَرَائِهَا كَوَاعِبُهَا ، وَأَكْوَابُهَا ، وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيَفِيضُ عَرَقًا حَتَّى تَسِيخَ فِي الْأَرْضِ قَامَتُهُ ، ثُمَّ يَرْتَفِعُ حَتَّى يَبْلُغَ أَنْفَهُ ، وَمَا مَسَّهُ الْحِسَابُ . قَالُوا : مِمَّ ذَاكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : مِمَّا يَرَى النَّاسُ يُلْقُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت کے دن ساری کی ساری زمین آگ ہو گی اور جنت اس کے پرے ہو گی ، لوگ اس کی حوروں کو اور اس کے برتنوں کو دیکھیں گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں عبداللہ کی جان ہے ، کوئی شخص اتنا پسینہ بہائے گا کہ زمین میں ان کا وجود پسینے میں ڈوبا ہو گا اور کسی کا پسینہ اس کی ناک تک پہنچ رہا ہو گا ، حالانکہ ابھی اس کا حساب نہیں ہوا ہو گا ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! اس کی وجہ کیا ہو گی ؟ انہوں نے فرمایا : وہ صورتحال جس کا لوگ سامنا کریں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔