مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي هَوْلِ الْمَطْلَعِ وَشِدَّةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ . باب: مطلع کی ہولناکی ، اور قیامت کے دن کی شدت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ أَنَّهُ : " يَبْلُغُ الْعَرَقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَقَالَ أَحَدُهُمَا : " إِلَى شَحْمَتِهِ " . وَقَالَ الْآخَرُ : " يُلْجِمُهُ " . فَحَطَّ ابْنُ عُمَرَ ، وَأَشَارَ أَبُو عَاصِمٍ بِإِصْبُعَيْهِ مِنْ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى فِيهِ ، فَقَالَ : مَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا سَوَاءً . قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سعید بن عامر انصاری بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے یہ کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کے پسینے کا کیا عالم ہو گا ؟ اُن دونوں میں سے ایک نے یہ بات ذکر کی کہ کسی شخص کا پسینہ اس کی کانوں کی لو تک ہو گا اور دوسرے صاحب نے یہ بات ذکر کی ، پسینے نے اسے لگام ڈالی ہوئی ہو گی ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اشارہ کر کے بتایا کہ کانوں کی لو سے لے کر اس کے منہ تک ایسے ہو گا ، ابوعاصم نامی راوی نے اپنی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بتایا کہ ایسے ہو گا اور انہوں نے یہ کہا: میرے خیال میں یہ دونوں صورتیں برابر ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن عمیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔