مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ . باب: لوگوں کا حشر کیسے کیا جائے گا ؟
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يُحْشَرُ النَّاسُ مَا بَيْنَ السِّقْطِ إِلَى الشَّيْخِ الْفَانِي أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ ، فِي خَلْقِ آدَمَ ، وَحُسْنِ يُوسُفَ ، وَقَلْبِ أَيُّوبَ ، مُكَحَّلِينَ ذَوِي أَفَانِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ : أَبُو فَرْوَةَ الرُّهَاوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤سیدنا مقدام بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ( یعنی دنیا میں ) نامکمل پیدا ہونے والے بچے سے لے کر بوڑھے ترین شخص تک سب کو ایسی صورت میں پیدا کیا جائے گا کہ اُن کی عمر 33 برس ہو گی ، اُن کی جسمانی ساخت سیدنا آدم علیہ السلام جیسی ہو گی ، اُن کی خوبصورتی سیدنا یوسف علیہ السلام جیسی ہو گی ان کے دل سیدنا ایوب علیہ السلام جیسے ہوں گے ، اُن کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور بال بھرپور ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ابوفروہ رہاوی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔