مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ . باب: لوگوں کا حشر کیسے کیا جائے گا ؟
وَعَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ قَالَ : قُلْنَا لِلْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ : يَا أَبَا كَرِيمَةَ ، إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : بَلَى . وَاللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ ، وَلَقَدْ أَخَذَ بِشَحْمَةِ أُذُنِي هَذِهِ ، وَأَنَا أَمْشِي مَعَ عَمٍّ لِي ، ثُمَّ قَالَ لِعَمِّي : " أَتُرَى أَنَّهُ يَذْكُرُهُ ؟ " . قُلْنَا : يَا أَبَا كَرِيمَةَ ، حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يُحْشَرُ مَا بَيْنَ السِّقْطِ إِلَى الشَّيْخِ الْفَانِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي خَلْقِ آدَمَ ، وَقَلْبِ أَيُّوبَ ، وَحُسْنِ يُوسُفَ ، مُرْدًا مُكَحَّلِينَ " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ بِالْكَافِرِ ؟ قَالَ : " يُغَلَّظُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ غِلَظُ جِلْدِهِ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا ، وَقَرِيضَةُ النَّابِ مِنْ أَسْنَانِهِ مِثْلُ أُحُدٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ . ¤سلیم بن عامر کلاعی بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوکریمہ ! لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں کی ہے ، انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس کان کی لو کو پکڑ لیا تھا ، میں اپنے چچا کے ساتھ چلتا ہوا آ گیا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے میرے چچا سے فرمایا تھا : کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اس کا ذکر کرے گا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا: اے ابوکریمہ ! آپ ہمیں وہ بات بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ( دنیا میں ) نامکمل پیدا ہونے والے بچے سے لے کر بوڑھے ترین شخص تک سب کو یوں اٹھایا جائے گا کہ اُن کی جسمانی کیفیت سیدنا آدم علیہ السلام کی طرح ہو گی ، اُن کا دل سیدنا ایوب علیہ السلام کی طرح ہو گا اور ان کی خوبصورتی سیدنا یوسف علیہ السلام کی مانند ہو گی ، وہ داڑھی مونچھ کے بغیر ہوں گے اور ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کافر کا کیا عالم ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ارشاد فرمایا : اسے جہنم کے لیے بڑا کر دیا جائے گا ، یہاں تک کہ اُس کی جلد کی موٹائی چالیس ذراع ہو گی اور اس کے دانتوں میں سے اطراف کا ، ایک دانت احد پہاڑ جتنا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند حسن ہے ۔