مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ قِيَامِ السَّاعَةِ ، وَكَيْفَ يَنْبُتُونَ . باب: قیامت قائم ہونا اور وہ لوگ کیسے پھوٹیں گے ( یعنی کیسے دوبارہ زندہ ہوں گے )
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ قَبْلَ السَّاعَةِ سَحَابَةٌ سَوْدَاءُ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ مِثْلُ التُّرْسِ ، فَلَا تَزَالُ تَرْتَفِعُ فِي السَّمَاءِ ، وَتَنْتَشِرُ حَتَّى تَمْلَأَ السَّمَاءَ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَيْنِ يَنْشُرَانِ الثَّوْبَ فَلَا يَطْوِيَانِهِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَمْدُرُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي مِنْهُ شَيْئًا أَبَدًا ، وَالرَّجُلُ يَحْلُبُ نَاقَتَهُ فَلَا يَشْرَبُهُ أَبَدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت سے پہلے تم لوگوں پر ایک سیاہ رنگ کا بادل آئے گا جو مغرب کی طرف سے آئے گا اور ڈھال کی طرح کا ہو گا ، وہ مسلسل آسمان میں بلند ہوتا رہے گا اور پھیلتا رہے گا یہاں تک کہ آسمان کو بھر دے گا پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا : اے لوگو ! تو لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھیں گے : کیا تم نے سنا ہے ؟ تو ان میں سے کچھ لوگ جواب دیں گے : جی ہاں ! وہ دوسری مرتبہ پکار کر کہے گا : اے لوگو ! اللہ کا حکم آ گیا ہے ، تو تم اس کے حوالے سے جلدبازی نہ کرو ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، دو آدمیوں نے اپنا کپڑا پھیلایا ہوا ہو گا اور وہ دونوں اسے سمیٹ نہیں سکیں گے ، ایک شخص اپنے حوض کو بنا رہا ہو گا اور وہ اس میں سے پانی حاصل نہیں کر پائے گا ، ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہو گا ، لیکن وہ اس کو پی نہیں سکے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔