مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ النَّفْخِ فِي الصُّورِ . باب: صور میں پھونک مارا جانا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ ، وَعِنْدَهَا كَعْبٌ الْحَبْرُ ، فَذَكَرَ إِسْرَافِيلَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا كَعْبُ ، أَخْبِرْنِي عَنْ إِسْرَافِيلَ ، فَقَالَ كَعْبٌ : عِنْدَكُمُ الْعِلْمُ ، قَالَتْ : أَجَلْ . قَالَتْ : فَأَخْبِرْنِي ، قَالَ : لَهُ أَرْبَعَةُ أَجْنِحَةٍ : جَنَاحَانِ فِي الْهَوَاءِ ، وَجَنَاحٌ قَدْ تَسَرْبَلَ بِهِ ، وَجَنَاحٌ عَلَى كَاهِلِهِ ، وَالْقَلَمُ عَلَى أُذُنِهِ ، فَإِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ كَتَبَ الْقَلَمُ ، ثُمَّ دَرَسَتِ الْمَلَائِكَةُ ، وَمَلَكُ الصُّورِ جَاثٍ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهِ ، وَقَدْ نَصَبَ الْأُخْرَى ، فَالْتَقَمَ الصُّورَ مَحْنِيٌّ ظَهْرُهُ ، وَقَدْ أُمِرَ إِذَا رَأَى إِسْرَافِيلَ قَدْ ضَمَّ جَنَاحَهُ أَنْ يَنْفُخَ فِي الصُّورِ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھا اُن کے پاس کعب احبار موجود تھے ، انہوں نے سیدنا اسرافیل علیہ السلام کا ذکر کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے کعب ! تم مجھے سیدنا اسرافیل علیہ السلام کے بارے میں بتاؤ ! کعب نے جواب دیا : آپ لوگوں کے پاس علم ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جی ہاں ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لیکن تم مجھے بتاؤ ! تو کعب احبار نے بتایا : اُن کے چار پر ہیں ، دو پر ہوا میں ہیں ، ایک پر ان کی زینت ہے ، ایک پر ان کی کاہل نامی ( رگ کی ) جگہ پر ہے ، قلم ان کے کان پر ہے ، جب وحی نازل ہوتی ہے تو قلم لکھتا ہے اور فرشتے درس لیتے ہیں اور صور پر متعین فرشتہ وہ ایک گھٹنے کے بل جھکا ہوا ہے اور دوسرا گھٹنا اُس نے کھڑا کیا ہوا ہے ، اس نے صور کو منہ کے ساتھ لگایا ہوا ہے ، اُس نے اپنی پشت کو جھکایا ہوا ہے ، اُسے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو دیکھے کہ انہوں نے اپنے پر ملا لیے ہیں ، تو وہ صور میں پھونک مار دے ۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔