حدیث نمبر: 18272
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَرْسَلَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا ، فَأَمْسَكْتُ وَقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - أَوْ قَالَتْ : فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَطَعْتُ - قَالَ : فَتَقُولُ لِلَّذِي تُحَدِّثُهُ : هَذَا عَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، عَلَى مِصْبَاحٍ ؟ ! قَالَتْ : لَوْ كَانَ عِنْدَنَا دُهْنُ مِصْبَاحٍ لَأَكَلْنَاهُ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے رات کے وقت ہمیں ایک بکری کا پایا بھیجا ( یا ٹانگ بھیجی ) تو میں نے اس کو پکڑ لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کاٹا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ لیا اور میں نے اسے کاٹا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ ان دنوں کی بات ہے جب ( گھروں میں ) چراغ نہیں ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : میں نے کہا: اے ام المؤمنین ! کیا چراغ نہیں تھا ؟ انہوں نے فرمایا : اگر ہمارے پاس چراغ کے لیے تیل ہوتا تو ہم اس کو کھا لیتے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (94/6)»