مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنِ الْوَقْتِ . باب: جو شخص نماز کو مخصوص وقت سے مؤخر کر دے
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ) قَالَ : " هُمُ الَّذِينَ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى مَرْفُوعًا بِنَحْوِ هَذَا وَمَوْقُوفًا ، وَفِيهِ عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : رَوَاهُ الْحُفَّاظُ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُهُ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ” وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے غفلت کا شکار تھے “ ۔ تو آپ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے مخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے ” مرفوع “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عکرمہ بن ابراہیم ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے امام بزار کہتے ہیں : حافظان حدیث نے اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس راوی کے علاوہ کسی اور نے اسے ” مرفوع “ نقل نہیں کیا ۔