حدیث نمبر: 1824
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتَاهُ أَرَأَيْتُ قَوْلَهُ : ( الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ) أَيُّنَا لَا يَسْهُو ؟ أَيُّنَا لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ ؟ قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ ، إِنَّمَا هُوَ إِضَاعَةُ الْوَقْتِ ، يَلْهُو حَتَّى يَضِيعَ الْوَقْتُ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالَ سَعْدٌ : أَوَلَيِسَ كُلُّنَا نَفْعَلُ ذَلِكَ ؟ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : اے ابا جان اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ” وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے غافل ہوتے ہیں “ ۔ تو ہم میں سے کسے سہو لاحق نہیں ہوتا ہے ، اور ہم میں سے کون اپنے خیال میں گم نہیں ہو جاتا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اس سے مراد یہ نہیں ہے ، اس سے مراد وقت ضائع کرنا ہے کہ آدمی دوسری چیزوں میں مصروف رہے ، یہاں تک کہ ( نماز کا مخصوص ) وقت ضائع ہو جائے ۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا ہم میں سے ہر ایک ایسا نہیں کرتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1824
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔