مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنِ الْوَقْتِ . باب: جو شخص نماز کو مخصوص وقت سے مؤخر کر دے
وَعَنِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهَا سَتَجِيءُ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ حَتَّى لَا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا " . قُلْنَا : فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالُوا : " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً " . ¤ هَذَا لَفْظُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَتَرْجَمَ لَهُ فَقَالَ : حَدِيثُ أَبِي أُبَيٍّ وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ عَنْهُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَلِأَبِي أَبِيٍّ صُحْبَةٌ . فَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے ارشاد فرمایا : عنقریب ایسے حکمران آئیں گے کہ کچھ چیزیں انہیں مصروف رکھیں گی یہاں تک کہ وہ لوگ نماز اس کے مخصوص وقت پر ادا نہیں کریں گے راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کر لینا اگر تم ان حکمرانوں کے ساتھ اس نماز کو پاؤ تو ان کے ساتھ ادا کی جانے والی اپنی نماز کو نفل قرار دے دینا ۔
روایت کے یہ الفاظ امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کیے ہیں : اسے امام أحمد نے بھی روایت کیا ہے انہوں نے اس کے حالات بھی بیان کیے ہیں ، اور یہ بات بیان کی ہے یہ ابوابی کی نقل کردہ حدیث ہے انہوں نے اس راوی کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے یہی روایت امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے ان کے حوالے سے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ سیدنا ابوالی رضی اللہ عنہ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔