حدیث نمبر: 18211
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، مَا مِنْ نَفْسٍ حَيَّةٍ إِلَّا الْمَوْتُ خَيْرٌ لَهَا إِنْ كَانَ بَرًّا ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ . وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اُس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، آج جو بھی شخص زندہ ہے ، اُس کے حق میں موت بہتر ہے ، اگر وہ نیک ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے ۔ “ اور اگر کوئی شخص گناہ گار ہو تو اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے : ” اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ ہم انہیں جو ڈھیل دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں بہتر ہے ہم انہیں ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ ان کے گناہ میں اضافہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یزید بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18211
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8759)»