حدیث نمبر: 18210
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَهُوَ خَاثِرٌ فَقُلْنَا : مَا لَكَ ؟ قَالَ : ذَهَبَ صَفْوُ الدُّنْيَا ، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْكَدَرُ ، وَالْمَوْتُ الْيَوْمَ تُحْفَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَحَدُهُمَا جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوجحیفہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، اُن کا مزاج خوشگوار نہیں تھا ، ہم نے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ” دنیا کا صاف حصہ رخصت ہو گیا ہے اور صرف اس کا گدلا حصہ باقی رہ گیا ہے ، اور آج موت ہر مسلمان کے لئے تحفے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18210
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8774)»