مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ سَاعَةٍ وَسَاعَةٍ . باب: ایک گھڑی اور دوسری گھڑی ( میں کیفیات مختلف ہونے ) کا بیان
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُثْنُونَ عَلَيْهِ ، وَيَذْكُرُونَ مِنْ عِبَادَتِهِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِتٌ ، فَلَمَّا سَكَتُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ الْمَوْتِ ؟ " . قَالُوا : لَا . قَالَ : " فَهَلْ كَانَ يَدَعُ كَثِيرًا مِمَّا يَشْتَهِي " . قَالُوا : لَا . قَالَ : " مَا بَلَغَ صَاحِبُكُمْ كَثِيرًا مِمَّا تَذْهَبُونَ إِلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی تعریف کرنا شروع کی اور اس کی عبادت کا ذکر کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، جب لوگ خاموش ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وہ موت کا ذکر کثرت سے کرتا تھا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اسے جن چیزوں کی خواہش محسوس ہوتی تھی ، کیا وہ ان میں سے زیادہ تر چیزیں چھوڑ دیتا تھا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا ساتھی اس میں سے زیادہ تر نہیں پہنچا ، جس کی طرف تم جا رہے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔