مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ سَاعَةٍ وَسَاعَةٍ . باب: ایک گھڑی اور دوسری گھڑی ( میں کیفیات مختلف ہونے ) کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِمَجْلِسٍ ، وَهُمْ يَضْحَكُونَ ، قَالَ : " أَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَادِمِ اللَّذَّاتِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - فَإِنَّهُ مَا ذَكَرَهُ أَحَدٌ فِي ضِيقٍ مِنَ الْعَيْشِ إِلَّا وَسَّعَهُ عَلَيْهِ ، وَلَا فِي سَعَةٍ إِلَّا ضَيَّقَهَا عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک محفل کے پاس سے ہوا ، جس میں لوگ ہنس رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ لذتوں کو منہدم کر دینے والی موت کو کثرت کے ساتھ یاد کرو ! “ ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص تنگی کے عالم میں اسے یاد کرے گا یہ اس کے لیے گنجائش پیدا کر دے گی اور جو گنجائش کے عالم میں اسے یاد کرے گا ، یہ اس کے لئے تنگی پیدا کر دے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے ان صحابی کے حوالے سے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند حسن ہے ۔