حدیث نمبر: 18203
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : كَانَ لِعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بَيْتٌ قَدْ أَخْلَاهُ لِلْحَدِيثِ ، فَكُنَّا نَأْتِيهِ فِيهِ ، وَكَانَ يَقُولُ : سَاعَةٌ لِلدُّنْيَا ، وَسَاعَةٌ لِلْآخِرَةِ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَيَّ السَّاعَتَيْنِ تَغْلِبُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا گھر تھا ( یہاں شاید کمرہ مراد ہے ) جسے انہوں نے بات چیت کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا ، وہ ایک پہر دنیاوی امور پر گفتگو کرتے تھے اور ایک بہر آخرت کے بارے میں گفتگو کرتے تھے ، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان دونوں میں کون سا پہر غالب ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عثمان بن ابوصفوان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18203
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (831)»