مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ سَاعَةٍ وَسَاعَةٍ . باب: ایک گھڑی اور دوسری گھڑی ( میں کیفیات مختلف ہونے ) کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَيْنَا فِي أَنْفُسِنَا مَا نُحِبُّ ، فَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا وَخَالَطْنَاهُمْ أَنْكَرْنَا أَنْفُسَنَا ! فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي فِي الْخَلَاءِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا ، وَلَكِنْ سَاعَةً وَسَاعَةً " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّازِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ؟ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَقَالَ : " لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُظِلَّكُمْ بِأَجْنِحَتِهَا عِيَانًا " . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے یہ بات بیان کی ہے : ” جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے تھے تو ہم اپنے من میں وہ چیز محسوس کرتے تھے جو ہمیں اچھی لگتی تھی ، اور جب ہم اپنے اہل خانہ کی طرف واپس چلے جاتے تھے اور ان کے ساتھ گھل مل جاتے تھے تو ہمیں اپنے من کی کیفیت تبدیل محسوس ہوتی تھی ، اُن لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگوں کی میرے پاس جو کیفیت ہوتی ہے ، اگر تنہائی میں ( یعنی مجھ سے دور ہو کر ) بھی ویسی ہی کیفیت ہو تو فرشتے اپنے پروں کے ذریعے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں ، لیکن وقت ، وقت ( کی کیفیت مختلف ہوتی ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زہیر بن محمد رازی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں اور تم پر اپنے پروں کے ذریعے سایہ کریں ، جسے دیکھا جا سکے ۔ “