مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنِ الْوَقْتِ . باب: جو شخص نماز کو مخصوص وقت سے مؤخر کر دے
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَيُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا ، فَصَلُّوا مَعَهُمْ ، فَإِنْ صَلَّوْا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَلَهُمْ ، وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَمَنْ مَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ " . فَقُلْتُ : مَنْ أَخْبَرَكَ هَذَا الْخَبَرَ ؟ فَقَالَ : أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُخْبِرُهُ عَامِرٌ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ إِلَّا أَنَّ مَالِكًا رَوَى عَنْهُ . ¤عاصم بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو کبھی وقت پر ادا کریں گے اور کبھی مخصوص وقت سے مؤخر کر دیں گے تم لوگ ان کی اقتداء میں نماز ادا کرنا وہ لوگ نماز اپنے وقت پر ادا کریں تو تم ان لوگوں کے ساتھ وہ نماز ادا کر لینا تمہیں بھی اجر ملے گا ، اور انہیں بھی اجر ملے گا ، اور اگر وہ اس کو تاخیر کے ساتھ ادا کریں تو تم اس نماز کو ان کے ساتھ ادا کرنا تمہیں اجر ملے گا ، اور انہیں گناہ ہو گا ، جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے ، اور جو شخص عہد کو توڑنے والا ہو گا جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اس شخص کی کوئی حجت نہیں ہو گی“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : آپ کو یہ روایت کس نے بیان کی ہے ، تو انہوں نے بتایا : مجھے ۔
یہ روایت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے اپنے والد سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بتائی تھی ۔ یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، تاہم امام مالک نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔