مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى صَلَاةً وَعَلَيْهِ غَيْرُهَا . باب: جب کوئی شخص کوئی نماز ادا کر لے اور اس کے ذمہ دوسری نماز بھی لازم ہو
حدیث نمبر: 1818
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَذَكَرَهَا وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ وَلْيَقْضِ الَّتِي نَسِيَ ، ثُمَّ لِيُعِدِ الَّتِي صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص نماز بھول جائے اور پھر وہ نماز اسے اس وقت یاد آئے جب وہ امام کے ساتھ ( کوئی دوسری نماز ادا کر رہا ہو ) تو اسے اپنی نماز مکمل کرنی چاہیے اور پھر اس نماز کی قضا کرنی چاہیے جو وہ بھول گیا تھا پھر اس نماز کو دہرا لینا چاہیے جو اس نے امام کے ساتھ ادا کی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن ہشام مستملی کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔