حدیث نمبر: 1820
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ ؟ فَنِعِمَّا فَعَلْتَ . أَمِ ابْتَدَعْتَ ؟ فَقَالَ : لَمْ يَأْتِنِي مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ وَلَمْ أَبْتَدِعْ ، وَلَكِنْ أَبَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْنَا وَرَسُولُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَنْتَظِرَكَ بِصَلَاتِنَا وَأَنْتَ فِي حَاجَتِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے نماز کے لئے تاخیر کر دی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی اور لوگوں کو نماز پڑھا دی ولید نے انہیں پیغام بھیجا کہ آپ نے جو کیا ہے ایسا کیوں کیا ہے کیا آپ کے پاس امیرالمؤمنین کی طرف سے کوئی حکم آیا ہے ، تو پھر تو آپ نے اچھا کیا ہے یا پھر آپ نے بدعت اختیار کی ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہ تو میرے پاس امیرالمؤمنین کی طرف سے کوئی حکم آیا ہے ، اور نہ ہی میں نے بدعت اختیار کی ہے ، لیکن اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی ہے کہ ہم اپنی نماز کے لئے تمہارا انتظار کرتے رہیں اور تم لوگ اپنے کام کاج کر رہے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1820
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح