حدیث نمبر: 18180
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَبَكَتْ عَلَيْهِ بَاكِيَةٌ ، فَقَالَتْ وَاشَهِيدَاهُ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَهْ ، مَا يُدْرِيكِ أَنَّهُ شَهِيدٌ ؟ وَلَعَلَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ ، وَيَبْخَلُ بِمَا لَا يَنْقُصُهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عِصَامُ بْنُ طَلِيقٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص قتل ہو گیا ، ایک خاتون نے اس پر روتے ہوئے یہ کہہ دیا : ہائے شہید ! راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رک جاؤ ! تمہیں کیا پتا کہ یہ شہید ہے ؟ ہو سکتا ہے وہ ایسی باتیں کرتا ہو جو لایعنی ہوں اور وہ ایسی چیزوں کے حوالے سے بخل کرتا ہو ( جن کو خرچ کرنے سے ) اُس کے لیے کوئی کمی نہ ہوتی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عصام بن طلیق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18180
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6646)»