مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ صَلَّى صَلَاةً وَعَلَيْهِ غَيْرُهَا . باب: جب کوئی شخص کوئی نماز ادا کر لے اور اس کے ذمہ دوسری نماز بھی لازم ہو
عَنْ أَبِي جُمْعَةَ حَبِيبِ بْنِ سِبَاعٍ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْمَغْرِبَ وَنَسِيَ الْعَصْرَ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَلْ رَأَيْتُمُونِي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ ؟ " قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، وَنَقَضَ الْأُولَى ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْأَذَانِ لِلْفَوَائِتِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤سیدنا ابوجمعہ حبیب بن سباع رضی اللہ عنہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کر لی اور عصر کی نماز بھول گئے تھے ۔ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم لوگوں نے مجھے عصر کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی پھر اس نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی آپ نے پہلی نماز توڑ دی ( یعنی اسے کالعدم قرار دیا ) اور پھر مغرب کی نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : فوت شدہ نمازوں کے لئے اذان دینے کے متعلق باب میں احادیث آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔