حدیث نمبر: 18166
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ عَلَى مِيقَاتِهَا " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِرُّ الوَالِدَيْنِ " قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ يَسْلَمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِكَ " ثُمَّ سَكَتَ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " الصَّلَاةُ لِمِيقَاتِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کرنا ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ لوگ تمہاری زبان سے سلامت رہیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر میں خاموش ہو گیا ، اگر میں آپ سے مزید دریافت کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزید ( جواب ) ارشاد فرماتے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے ، صرف نماز کو اُس کے مخصوص وقت میں ادا کرنے والا حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن عبداللہ نخعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18166
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9802)»