حدیث نمبر: 18150
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَيَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلْيَسَعْهُ بَيْتُهُ ، وَلْيَبْكِ عَلَى خَطِيئَتِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَيَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا لِيَغْنَمَ ، أَوْ لِيَسْكُتْ عَنْ شَرٍّ فَيَسْلَمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو اس کا گھر اس کے لئے گنجائش والا ہونا چاہیے ( یعنی اُس کو زیادہ تر اپنے گھر میں رہنا چاہیے ) اور اُسے اپنے گناہوں پر رونا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں اُسے بھلائی کی بات کرنی چاہیے تاکہ وہ غنیمت حاصل کرے ، یا برائی کے حوالے سے خاموش رہنا چاہیے تاکہ وہ سلامت رہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7706)»