حدیث نمبر: 18149
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَارَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَصْحَابِهِ مَعَهُمْ لَمْ يَتَقَدَّمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ يَوْمَنَا قَبْلَ يَوْمِكَ ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ شَيْءٌ وَلَا يُرِينَا اللَّهُ ذَلِكَ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ نَعْمَلُهَا بَعْدَكَ ؟ فَصَمَتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " نِعْمَ الشَّيْءُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَعَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ " . قَالَ : الصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : " نِعْمَ الشَّيْءُ الصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ ، وَعَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ " . فَذَكَرَ مُعَاذٌ كُلَّ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَعَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى فِيهِ قَالَ : " الصَّمْتُ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ " . قَالَ : وَهَلْ نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمَتْ أَلْسِنَتُنَا ؟ ! فَضَرَبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَخِذِ مُعَاذٍ ثُمَّ قَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! " وَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ " وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ إِلَّا مَا نَطَقَتْ بِهِ أَلْسِنَتُهُمْ ؟ ! فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ عَنْ شَرٍّ ، قُولُوا خَيْرًا تَغْنَمُوا ، وَاسْكُتُوا عَنْ شَرٍّ تَسْلَمُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ اپنی سواری پر چلتے ہوئے جا رہے تھے ، آپ کے ہمراہ آپ کے اصحاب تھے ، ان میں سے کوئی ایک بھی آپ سے آگے نہیں ہوتا تھا ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارا ( مرنے کا مخصوص ) دن ، آپ کے دن سے پہلے کر دے ، لیکن اگر کچھ ہو گیا ، ویسے اللہ تعالیٰ ہمیں وہ دن نہ دکھائے ، تو آپ کے بعد ہم کون سے اعمال پر عمل پیرا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، انہوں نے دریافت کیا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اچھی چیز ہے ، لیکن تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : روزہ رکھنا اور صدقہ کرنا ؟ آپ نے فرمایا : روزہ رکھنا اور صدقہ کرنا بھی اچھی چیز ہے لیکن تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ہر اس بھلائی کا ذکر کیا جس کا وہ علم رکھتے تھے اور ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے : تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ( اس سے مراد کیا ہے ؟ ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : خاموش رہنا ، البتہ بھلائی ( کے بارے میں بات کرنے ) کا حکم مختلف ہے ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ہماری زبانیں جو کلام کرتی ہیں ، کیا ان کے حوالے سے ہمارا مواخذہ کیا جائے گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے زانوں پر ہاتھ مارا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” تمہاری ماں تمہیں روئے ۔ “ اور جو بھی اللہ کو منظور تھا وہ آپ نے فرمایا ، اور پھر یہ فرمایا : ” لوگوں کو جہنم میں اُن کے نتھنوں کے بل اوندھا کر کے صرف اس وجہ سے ڈالا جائے گا ، جو اُن کی زبانوں نے گفتگو کی ہو گی ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کرے یا برائی کے حوالے سے خاموش رہے ، تم لوگ بھلائی کی بات کرو ، تم غنیمت حاصل کرو گے اور برائی کے حوالے سے خاموش رہو ، تم سلامت رہو گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن مالک جنبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18149
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح