حدیث نمبر: 18147
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنَّا نَجْلِسُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ غِلْمَانٌ ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا كَانَ أَطْوَلَ صَمْتًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ إِذَا تَكَلَّمَ أَصْحَابُهُ فَأَكْثَرُوا الْكَلَامَ تَبَسَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعِجْلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

ابومالک اشجعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے رہتے تھے ، ہم سب نوجوان تھے میں نے ایسا کوئی فرد نہیں دیکھا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خاموش رہتا ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب گفتگو کرتے ہوئے جب زیادہ گفتگو کرتے تھے تو آپ مسکرا دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ذکریا عجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18147
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8198)»