مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّمْتِ وَحِفْظِ اللِّسَانَ . باب: خاموش رہنے اور زبان کی حفاظت کرنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُحَدِّثُكَ ثِنْتَيْنِ مَنْ فَعَلَهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " يَحْفَظُ الرَّجُلُ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ " . قَالَ : فَرَجَعْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَقُلْنَا : وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَشَدِيدٌ ، كَيْفَ يَسْتَطِيعُ الْمَرْءُ أَنْ يَحْفَظَ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ فَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِخَيْرٍ ؟ قَالَ : فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ ذَكَرْتَ خَصْلَتَيْنِ شَدِيدَتَيْنِ ، وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْلِكَ لِسَانَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فَسِتٌّ مَنْ فَعَلَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قُلْنَا : وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ : " مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا يَزْنِي ، وَلَا يَأْتِي بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِيهِ " . فَأَتَمَّ الْآيَةَ كُلَّهَا فَكَانَتْ هَذِهِ أَشَدَّ مِنَ الْأُولَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں دو ایسی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کہ جو شخص انہیں کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی اُس چیز کی حفاظت کرے ، جو اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے ( یعنی زبان ) اور اُس کی جو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے ( یعنی شرمگاہ ) ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں اور میرا ساتھی واپس آئے ، ہم نے سوچا ، اللہ کی قسم ! یہ تو بہت مشکل ہے ، آدمی اس بات کی کیسے استطاعت رکھتا ہے کہ وہ دونوں جبڑوں کے درمیان موجود چیز کی حفاظت کرے اور صرف بھلائی کے بارے میں کلام کرے ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے دو ایسے امور ذکر کئے ہیں ، جو بہت مشکل ہیں یا رسول اللہ ! کون اس بات کی استطاعت رکھتا ہے کہ وہ اپنی زبان پر ق ابورکھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چھ کام ایسے ہیں ، جو شخص انہیں کر لے گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ، ہم نے دریافت کیا : وہ کون سے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائے ، وہ زنا نہ کرے ، وہ جھوٹا الزام نہ لگائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد آپ نے اس آیت کو مکمل تلاوت کیا ( راوی کہتے ہیں : ) تو یہ حکم پہلے والے سے بھی زیادہ مشکل تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔