مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّهْرَةِ . باب: شہرت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَفَى بِالْمَرْءِ مِنَ الْإِثْمِ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ خَيْرًا ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَ خَيْرًا فَهُو شَرٌّ لَهُ إِلَّا مَنْ رَحِمَ اللَّهُ ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَهُوَ شَرٌّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کے گناہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ انگلیوں کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا جائے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ بھلائی ہو ( جس کی وجہ سے اُس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہو ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگرچہ وہ بھلائی ہو ، لیکن اس شخص کے حق میں یہ ( یعنی اس کی طرف اشارہ کیا جانا ) برا ہو گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اگر وہ برائی ہو ( جس کی وجہ سے اُس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہو ) تو وہ تو اُس کے لئے برا ہی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔