حدیث نمبر: 18096
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى الْحِجْرِ لِيَدْخُلُوا فِيهِ ; فَنُودِيَ فِي النَّاسِ : أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " عَلَى مَا تَدْخُلُونَ ؟ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ؟ ! " . قَالَ : فَنَادَاهُ رَجُلٌ يَعْجَبُ مِنْهُمْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ ؟ نَبِيُّكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ ، اسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُهَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر لوگ تیزی کے ساتھ ” حجر “ نامی بستی کی طرف بڑھے تاکہ اس میں داخل ہو جائیں ، لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا اور آپ یہ فرما رہے تھے : تم کہاں داخل ہونے لگے ہو ؟ ایک ایسی قوم پر ، جن پر اللہ تعالی نے غضب نازل کیا ؟ راوی کہتے ہیں : تو ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو پکارا : یا رسول اللہ ! یہ تو ان لوگوں کی طرف سے حیران کن بات ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو اس سے زیادہ حیران کن بات کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاتے ہیں ، جو تم سے پہلے گزر چکی ہے اور اس کے بارے میں بھی بتاتے ہیں ، جو تمہارے بعد ہو گی تو تم لوگ سیدھے رہو اور ٹھیک رہو کیونکہ اللہ تعالی تمہیں عذاب دیتے ہوئے کوئی پرواہ نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18096
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن