حدیث نمبر: 18077
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : جَاءَ قَوْمٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمْ : " أَلْكُمْ طَعَامٌ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَلَكُمْ شَرَابٌ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَتُصَفُّونَهُ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " وَتُبَرِّدُونَهُ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ مَعَادَهُمَا كَمَعَادِ الدُّنْيَا ، يَقُومُ أَحَدُكُمْ إِلَى خَلْفِ بَيْتِهِ فَيُمْسِكُ عَلَى أَنْفِهِ مِنْ نَتْنِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا تم لوگ کھانا کھاتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ پیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ اس کو بھونتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : پھر تم اس کو ٹھنڈا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دونوں کا جو انجام ہے ، وہ دنیا کے انجام کی مانند ہے ، تم میں سے کوئی ایک شخص اُٹھ اُٹھ کر اپنے گھر کے پیچھے جاتا ہے اور اس کی بدبو سے بچنے کے لئے اپنی ناک بند کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6119)»