حدیث نمبر: 18076
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " يَا ضَحَّاكُ ، مَا طَعَامُكَ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اللَّحْمُ وَاللَّبَنُ . قَالَ : " ثُمَّ يَصِيرُ إِلَى مَاذَا ؟ " . قَالَ : إِلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ضَرَبَ مَا يَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : ” اے ضحاک ! تمہاری خوراک کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گوشت اور دودھ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : پھر وہ کیا بن جاتا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : وہی جو آپ جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن آدم میں سے جو کچھ نکلتا ہے ۔ اللہ تعالی نے اُسے دنیا کے لئے مثال کے طور پر بیان کیا ہے ( یا مثال بنایا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید بن جدعان کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18076
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8138) اخرجه احمد فى المسند (452/3)»