مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ هَوَانِ الدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ . باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ، دنیا کا بے حیثیت ہونا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ مَنْزِلِهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَأَخَذَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَمَرَّ بِفِنَاءِ قَوْمٍ وَسَخْلَةٌ مَيِّتَةٌ مَطْرُوحَةٌ بِفِنَائِهِمْ ، فَقَامَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْظُرُ إِلَيْهَا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " تَرَوْنَ هَذِهِ السَّخْلَةَ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا إِذْ طَرَحُوهَا ؟ " . فَقَالُوا : نَعَمْ . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ السَّخْلَةِ عَلَى أَهْلِهَا إِذْ طَرَحُوهَا " . هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے ، آپ کے ساتھ آپ کے کچھ اصحاب بھی تھے ، آپ مدینہ منورہ کے ایک راستے سے گزر رہے تھے ، آپ کا گزر کسی کے گھر کے باہر والے حصے کے پاس سے ہوا تو وہاں ان لوگوں نے اپنی ایک مردار بکری باہر پھینکی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس ٹھہر گئے اور اس کی طرف دیکھنے لگے ، پھر آپ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے دریافت کیا : کیا تم یہ سمجھتے ہو ، یہ اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ، جبھی انہوں نے اس کو پھینک دیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ بکری اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ، جب انہوں نے اسے پھینک دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔