حدیث نمبر: 18070
وَعَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِسَخْلَةٍ أَتَى عَلَيْهَا : " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنِ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ الْعَلَّافُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ یہ اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت تھی ؟ اسی لئے انہوں نے اسے پھینک دیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ ( یعنی بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے جب انہوں نے اسے پھینک دیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وہب بن یحیی بن زمام علاف ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18070
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف