حدیث نمبر: 18055
وَعَنْ سَاعِدَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ حُذَيْفَةَ : أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ يَقُولُ : مَا مِنْ يَوْمٍ أَقَرَّ لِعَيْنِي وَلَا أَحَبَّ لِنَفْسِي مِنْ يَوْمٍ آتِي أَهْلِي فَلَا أَجِدُ عِنْدَهُمْ طَعَامًا ، وَيَقُولُونَ : مَا نَقْدِرُ عَلَى قَلِيلٍ وَلَا كَثِيرٍ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ أَشَدُّ حَمِيَّةً لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الدُّنْيَا مِنَ الْمَرِيضِ أَهْلُهُ مِنَ الطَّعَامِ ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدُّ تَعَاهُدًا لِلْمُؤْمِنِ بِالْبَلَاءِ مِنَ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ بِالْخَيْرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

ساعده بن سعد بن حذیفہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے : ” کوئی بھی دن میری آنکھوں کے لیے اس دن سے زیادہ ٹھنڈا اور میرے من کے لیے اس دن سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے جس دن میں اپنے گھر آؤں اور میں اپنے گھر والوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ پاؤں ، اور وہ یہ کہیں کہ ہمارے پاس تھوڑی یا زیادہ کوئی چیز نہیں ہے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ مومن کو دنیا سے اس سے زیادہ سختی سے بچاتا ہے ، جتنا بیمار کے اہل خانہ اسے کھانے سے بچاتے ہیں اور مومن کی آزمائش میں اللہ تعالٰیٰ اس کا اس سے زیادہ خیال رکھتا ہے جتنا والد بھلائی کے ہمراہ اولاد کا خیال رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18055
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3003)»