حدیث نمبر: 18026
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ - يَعْنِي الْخَطْمِيَّ - قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى صَلَّى ، ثُمَّ دَعَا فَوَجَدَهُ فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ : " لِمَ سَأَلْتَ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " . قَالَ : أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ مَتَى هِيَ . قَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " . قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلَاةٍ ، وَلَا صِيَامٍ ، وَلَا صَدَقَةٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمُلَائِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ جب آپ نے نماز ادا کر لی تو آپ نے اسے بلایا آپ نے اسے انصار کے گھرانوں میں سے ایک گھرانے میں پایا ، آپ نے اس سے فرمایا : تم نے قیامت کے بارے میں کیوں سوال کیا ؟ اس نے جواب دیا : میں یہ چاہتا تھا کہ مجھے یہ پتا ہو کہ وہ کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی : میں نے اس کے لئے نماز ، روزے یا صدقے کی شکل میں زیادہ تیاری تو نہیں کی ، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم اس کے ساتھ ہو گے ، جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18026
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف